Popular Posts
-
بِسْمِ الْلّٰهِ الْرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم . "اِنشاءاللّٰه" یا "اِن شاءاللّٰه" ★عام طور پر اردو لکھنے والے "اگ...
-
In this Amazing and endless book of durood sharif the author god blessed him ,he collected more than 800 names of Rasulallah Peace be upo...
-
پہلی دلیل --- دلیل صنعت تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کے صنعت سے صانع(بنانے والا) کی خبر ملتی ہے مصنوع (جس کو بنایا گیا)اور صنعت (factory)ک...
-
King Saud University has released the long-awaited Complete Qur'an App. Dont leave anyone out, send them The Qur'an as a gift. KSU ...
-
اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس ساڑھے چودہ سو سال کے عرصہ میں کروڑ ہا خطیبوں ، واعظوں ،مفسروں ،محدثوں ، ادیبوں ، مفکروں ،دانشوروں ، قلم کارو...
-
تذکرہ موت قرآن میں ! کُلُّ مَنْ عَلَیْھَافَانٍ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔ جو کوئی زمین میں ہے فنا ہونے والا ہ...
-
تمہید کہتے ہیں کہ اسلام کے عروج کے دور میں بغداد کے قاضی اپنے شاندار گھوڑے پر سوار بازار میں جا رہے تھے کہ ایک غریب یہودی موچی نے ان کو رو...
-
حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب حقی رحمۃ اللہ علیہ کا خاندانی پس منظر پشتینی طور پر خدمت علم ودین واشاعت حدیث وسنت رہا ہے ، یہ خاندان بخارا ک...
-
ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے دور استبداد میں حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریک کو جاری رکھنے ، مسلمانانِ ہند کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے...
-
اکابر دیوبند کیا تھے؟ اس کا جواب مختصر لفظوں میں یوں بھی دیا جا سکتا ہے کہ وہ خیر القرون کی یادگار تھے، سلف صالحین کا نمونہ تھے، اسلامی مزاج...
Friday, July 8, 2016
قرآن مجید کی تلاوت کے مسائل
١. قرآن مجید کو دیکھ کر پڑھنا حفظ پڑھنے سے افضل ہے
٢. مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رُو ہو کر اور اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور تلاوت شروع کرتے وقت اعوذ باللّٰہ الخ پڑھنا واجب ہے نیز تلاوت شروع کرتے وقت اور ہر سورة کے شروع میں بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم پڑھنا سنت ہے اور کسی سورة کے درمیان سے شروع کرتے وقت بسم اللّٰہ کا پڑھنا مستحب ہے تلاوت کے درمیان میں کوئی دنیاوی کام کرے تو اعوذ باللّٰہ کا اعادہ کرے
٣. اگر سورة برائت سے تلاوت شروع کرے تو اعوذ باللّٰہ اور بسم اللّٰہ پڑھ لے اگر پہلے سے تلاوت شروع کی ہوئی ہے اور پڑھتے پڑھتے آگے یہ سورة شروع ہوتی ہے تو اس کے شروع میں بسم اللّٰہ کہنے کی ضرورت نہیں اور اس کے شروع میں ایک نیا تعوذ جو حافظوں نے نکالا ہے وہ بے اصل ہے
٤. گرمیوں میں صبح کو قرآن مجید ختم کرنا بہتر ہے اور جاڑوں میں اول شب کو ختم کرنا بہتر ہے
٥. تین دن سے کم میں قرآن پاک کا ختم خلاف اولیٰ ہے لیکن اکابرِ امت اس حکم سے مستثنیٰ ہیں
٦. لیٹ کر قرآن مجید پڑھنے میں مضائقہ نہیں لیکن دونوں پائوں سمٹے ہوئے ہوں کہ لیٹنے کا ادب یہی ہے- اسی طرح چلتے ہوئے یا کسی کام میں لگے ہوئے قرآن مجید پڑھنا جبکہ دھیان اس میں ہو جائز ہے ورنہ مکروہ ہے
٧. غسل خانہ اور نجاست کے مقامات میں قرآن مجید پڑھنا جائز نہیں
٨. جہاں قرآن مجید پڑھا جائے اگر وہاں مجمع سننے کی غرض سے ہے تو سب پر سننا فرض ہے ورنہ ایک کا سننا کافی ہے
٩. قرآن مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جبکہ کسی نمازی یا مریض یا سوتے ہوئے کو تکلیف نہ پہنچے
١٠. مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں تو یہ مکروہ تحریمی ہے آہستہ پڑہنا چاہئے- آج کل ایصال ثواب کی مجالس میں ختم قرآن سپاروں پر پڑھنے کا جو عام رواج ہو گیا ہے اس کے جواز کا فتویٰ دیا گیا ہے
١١. بازروں میں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے قرآن پڑھنا ناجائز ہے اسی طرح جہاں علمِ دین پڑھایا جا رہا ہو یا تالبعلم علم دین کا تقرار کریں یا مطالعہ دیکھے وہاں بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا جائے
١٢. قرآن مجید کا سننا خود تلاوت کرنے اور نوافل پڑھنے سے افضل ہے
١٣. اگر تلاوت کے دوران کوئی دین میں بزرگی والا شخص یا بادشاہِ اسلام یا عالمِ دین یا پیر یا استاد یا ماں باپ آ جائیں تو تلاوت کرنے والا اس کی تعظیم کو کھڑا ہو سکتا ہے
١٤. عورت کو غیر محرم نابینا سے پڑھنے کے بجائے عورت سے قرآن مجید -پڑھنا بہتر ہے
١٥. غلط پڑھنے والے کو بتانا سننے والے پر واجب ہے بشرطیہ کہ بتانے سے دشمنی اور حسد نہ پیدا ہو اسی طرح قرآن مجید میں کتابت کی غلطی معلوم ہونے پر اس کو صحیح کرا دینا اس پر واجب ہے
١٦. بلکل چھوٹا قرآن مجید چھاپنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں تحقیر کی صورت ہے
١٧. دیواروں اور محرابوں وغیرہ پر قرآن مجید لکھنا اچھا نہیں اور قرآن مجید کی تعظیم کی نیت سے اس پر طلائی کام کرنا مستحب ہے
١٨. ایک آیت کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلف ( عاقل و بالغ) پر فرضِ عین ہے اور پورے قرآن مجید کا حفظ کرنا فرض کفایہ ہے، سورة فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورة یا تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلف پر واجبِ العین ہے اور اس میں کمی کرنا مکروہِ تحریمی ہے، اسی طرح قرآت مسنونہ کی مقدار قرآن مجید یاد کرنا سنت ہے اور اس میں کمی کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، نیز پورے قرآن مجید کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلف کے لئے سنت عین اور نفل پڑھنے سے افضل ہے
١٩. قرآن مجید کو پڑھ کر بھلا دینا سخت گناہ ہے اس سے مراد ایسا بھولنا ہے کہ دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے
٢٠. تجوید یعنی قرآنِ مجید کو صحیح قوائد قرآت کے مطابق پڑھنا ضروری ہے اور اس کی مشق اچھے ماہر استاد سے کرنی چاہئے مخارج و صفات لازمہ و اوقاف کی ریائت نہ کرنے سے غلط قرآن پڑھنے کا گناہ ہو گا
شرائط ایمان
ایمان کی سات شرطیں ہیں
١. ایمان بلغیب یعنی اللہ تعالی ایمان لانا۔ اگرچہ اسے دیکھا نہیں ۔ لیکن ایمان بالبئاس یعنی موت کے فرشتے کو دیکھ کر ایمان لاناغیر معتبر اس وقت مومن کی طوبہ بھی قبول نہیں ہے
٢. عالم غیب اللہ ہے یہ اللہ تعالی کی خاص صفت ہے اور اسی کی شان ہے ٣. ایمان اختیار اور عقل وہوش سے لانا ۔ کافر کو مار کر کلمہ پڑھایا تو اس کا اعتبار نہیں اسی طرح مست اور بیہوش کے ایمان کا اعتبار نہیں
٤. اللہ تعالی کی حلال کی ہوئی چیز کو حلال جاننا
٥. اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام جاننا
٦. قبر الہی اور اس کے عذاب سے ڈرنا
٧. اس کی رحمت کا امیدوار ہونا ۔ دل اور زبان سے ایمان قبول کرنا اس کی حقیقت ہے اور عمر بھر مین ایک دفعہ ایمان لانا اور مرتے دم تک اس پر قائم رہنا فرض ہے اور اس کے بعد تکرار ایمان سنت ہے
ایمان کے باقی رہنے کی تین شرطیں ہیں
١. ایمان کا شکر ادا کرنا
٢. خوف زوال یعنی اس نعمت کے جاتے رہنے کا خوف رہنا ۔
٣. اللہ کی مخلوق پر ظلم نہ کرنا ان پر عمل کرنے سے ایمان باقی رہتا ہے
ایمان کے احکام
ایمان کے احکام مومن کے لئے ایمان کے سات احکام ہیں ان کو حقوق مومن بھی کہتے ہیں ۔ جن میں سے پانچ دنیا کے متعلق ہیں اور دو آخرت کے متعلق
دنیا کے متعلق
١. حکم شرعی کے بغیر قتل نہیں کیا جائے گا
٢. حکم شرعی کے بغیر قید نہیں کیا جائے گا
٣. اس کا مال ناحق نہ کھایا جائے گا
٤. اس کو تکلیف نہیں دی جائے گی
٥. اس پر برائی کا ظن جائز نہیں ہے جب تک کہ ظاہر نہ ہو جائے
آخرت کے متعلق
١. مومن قطعی یعنی دائمی دوزخی نہ ہو گا سوائے شرک کے خواہ کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کئے ہوں۔ آخر کسی وقت میں جنت میں جائے گا
٢. جب نیکیوں اور بدیوں کا وزن کیا جائے گا تو جس کی نیکیاں بھاری ہونگی وہ کامیاب ہو گا اس پر اللہ تعالی کا فضل و کرم ہو گا اور اس کو حساب کے بغیر جنت میں داخل کریں گے اور جس کی بدیاں غالب ہونگی وہ بقدر گناہ سزا بھگت کر جنت میں جائے گا اور اللہ تعالی چاہے تو اس کو محض اپنے فضل و کرم سے یا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے یا دیگر انبیاء و اولیاء کی شفاعت سے بخش دے اور چاہےتو گناہ کے مطابق عذاب دے کر جنت میں داخل کردے۔ مومن کو کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی بےخوف رہنا چاہیے
ایمان کے ارکان
ایمان کے ارکان ایمان کے دو رکن ہیں
ا. اقرار بللسان یعنی دین کے احکام جو تواتر کے ساتھ مجمل اور مفصل طور پر ہم تک پہچے ہیں ان کا زبان سے اقرار کرے ( ان احکام کی تفصیل صفت ایمان مجمل اور مفصل میں ہے) ۔
ب. تصدیق بالقلب یعنی ایمان مجمل اور ایمان مفصل کی دل سے تصدیق کرے ان کو دل سے مانے اور یقین کرے، اقرار اور تصدیق کی چار صورتیں ہیں
١. جس نے زبان سے اقرار اور دل سے صدیق کی وہ اللہ کے نزدیک بھی مومن ہے اور جنت کا مستحق ہےاور دنیا کے لوگوں کے نزدیک بھی مومن اوردنیا میں مومنوں کے حقوق کا حقدار ہے۔
٢. جو ان دونوں ارکان سے محروم ہے وہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی کافر ہے اور ہمیشہ کے لئےدوزخ کا مستحق ہے اور لوگوں کے نزدیک بھی کافر اور دنیا میں مومنون کے حقوق سےمحروم ہے۔
٣. جس نے دل سے تصدیق کی اور زبان سے اقرار نہ یں کیا تو دنیا کے احکام میں اس کو مومن نہیں کہیں گے اور حقوق مومنین سے محروم رہے گا۔ لیکن اللہ تعالی کے نزدیک وہ مومن ہے اور آخرت میں جنت کا مستحق ہے۔ پس حالت اضطرار میں کلمہ کفر کہنے سے وہ شخص اللہ تعالی کے نزدیک مومن ہے اگرچہ لوگ اسے کافر کہیں۔ اس طرح گونگے آدمی کا ایمان اقرار زبانی کے بغیر بھی معتبر ہے
٤. جس نےزبان سے اقرار کیا اور دل سے تصدیق نہیں کی وہ لوگوں کو نزدیک ظاہراً احکام میں مومن ہے اور اللہ کو نزدیک وہ کافر ہے۔ اس کو شرع میں منافق کہتے ہیں۔ منافقیں دنیا میں مومن کہلا کر اپنے آپ ان شرعی حدود سے جو کفار کے متعلق ہیں بچا لیں گے لیکن آخرت میں ان کے لئے ہمیشہ کی دوزخ اور دردناک عذاب ہے۔ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین کو قران مجید اور وحی الہی کے ذریعہ سے ظاہرومتعین کر دیا گیا تھا آپ کے بعدکے کسی زمانے میں کسی خاص شخص کو یقین کے ساتھ منافق نہیں کہ سکتے
اعراف کا بیان
اعراف کا بیان جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی وہ نہ دوزخ کے مستحق ہوں گے نہ جنت کے، لیکن جنت کی طمع رکھتے ہوں گے، وہ شروع میں اعراف میں رہیں گے اور آخر کار اللّٰہ تعالی کے فضل سے جنت میں جائیں گے، اعراف بلند جگہ کو کہتے ہیں۔ جنت و دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے، جو جنت کی لذتوں کو دوزخ تک اور دوزخ کی تکلیفوں کو جنت تک پہنچنے سے روکتی ہے، اس دیوار کی بلندی پر جو مقام ہو گا اس کو اعراف کہتے ہیں، بعض نے کہا کہ اعراف بمعنی معرفت ہے کہ اس مقام سے اہل جنت و اہل دوزخ ان کی پیشانیوں سے پہچانےجائیں گے، اصحابِ اعراف کے بارے میں مختلف اقوال ہیں راجح و صحیح یہ ہے کہ جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی وہ اصحاب اعراف ہیں یہ لوگ درمیان میں ہونے کی وجہ سے جنت و دوزخ دونوں طبقوں کی کیفیتوں سے متاثر ہوں گے، اعراف اور اس پر آدمیوں کا ہونا حق ہے اور اس کا انکار کفر ہے،
فائدہ
جنت و دوزخ پیدا ہو چکی ہیں، حضرت آدم و حضرت حوا علیہماالسلام کےجنت میں رہنے اور پھر وہاں سے زمین پر اتارے جانے کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے اور بھی بہت سی آیات و احادیث سے جنت و دوزخ کا موجود ہوناثابت اور حد تواتر کے پہنچ چکا ہے اس کا انکار کفر ہے، ان کی حقیقت میں اختلاف ہے بعض روحانی اور بعض جسمانی کہتے ہیں مگر یہ ان کی لفظی بحث ہے، البتہ بعض احادیث سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو جنت میں پیدا ہو چکی ہیں دن بدن اور نعمتیں بھی پیدا ہوتی جاتی ہیں، یعنی جنت کا بعض حصہ ایسا ہے کہ اس میں ذکر و تسبیح و اعمالِ صالحہ سے اشجار !وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ واللہ عالم بصواب
جنت کا بیان
جنت ایک ایسا مقام ہےجو اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئےبنایا ہے اور اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا اور نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گزرا، جو مثالیں قرآن مجید اور حدیثوں میں آئی ہیں سمجھانے کے لئے ہیں، حساب کے بعد مومن جنت کی طرف روانہ ہوں گے راستہ میں چشمہ رضوان آئے گا اس میں تمام مومن غسل کریں گے ان کی منھ چودہویں رات کی چاند کی مانند چمکتے ہوں گے اور بدن صاف ہو گا، ان کی خوبصورتی بے حد ہو گی، عورتیں ایسے زیب و زینت والی ہوں گی کہ حوریں بھی ان کا جمال دیکھ کر رشک کریں گی، تمام امتیں صف بستہ ہو جائیں گی، ہر ایک گروہ کو ایک بلند نشان ملے گا، نشان محمدی علی صاحبہاالصلوة و السلام سب سے پسندیدہ ہو گا، ایک لاکھ فرشتے نورانی معطر تھال لے کر ان کے استقبال کو آئیں گے، ہر ایک کےسر پر تاج ہو گا، سب سےاول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امت بہشت کی طرف چلے گی پھر باقی گروہ آگے پیچھے چلیں گے، فرشتے نورانی معطر تھال آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کریں گے پھر اور پیغمبروں کو پھر اور لوگوں کو پیش کریں گے- سب سےآگے نبی کریم علیہ الصلوة و السلام گزریں گے اور ستر ہزار فرشتے جبرئیل علیہ السلام کے ہمراہ آپ کے ہم رکاب ہوں گے اور دس کروڑ خوش الحان غلمان خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھتے ہوں گے، ستر ہزار چست و چالاک اور کمال زیب و زینت والے کوتل براق ہوں گے، نوری فرشتے باگیں پکڑ کر چلیں گے، تمام فرشتوں میں خوشی کا غلغلہ ہو گا، جنت میں ہر طرف شادیانے بجیں گے، جنت کے دروازے کھل جائیں گے، سب سے پہلے انحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم قدم رنجہ فرمائیں-گے اور پیچھے پیچھے مومنین حمدِ باری تعالٰی پڑھتے ہوئے داخل ہوں گے
بہشت کے آٹھ درجے ہیں
١. دارلاخلد، یہ عام لوگوں کے واسطے ہے،
٢. دارالسلام ، جو فقیروں اور صابروں کا مقام ہے،
٣. دارالمقام، جو مالدار شکرگزاروں کا مقام ہے،
٤. عدن، یہ عابدوں، زاہدوں، غازیوں، سخیوں اور اماموں کے واسطے ہے،
٥. دارالقرار، اس میں حافظ و عالم رہیں گے،
٦. جنت النعیم، یہ شہدوں اور مئوذنوں کے لئے ہے،
٧. جنت الماویٰ، جو شہدائے اکبر محسنین اور اولیائ کرام کا مقام ہے،
٨. جنت الفردوس، جو نبیوں اور رسولوں اور علمائ عاملین کی جگہ ہے،
فردوس بریں کے اوپر غرفہ نور ہے یہ مقام سرور حضرت خاتم الانبیا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واسطے ہے، مقام محمود اور وسیلہ جنت کا خاص درجہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو عطا ہو گا۔ ان آٹھوں بہشتوں کے بھی بےشمار درجے ہیں، اگر دنیا کے سونا چاندی کو آٹھ گناہ کیا جائےتو ایک ادنیٰ بہشتی بھی اس سے زیادہ نعمت پائے گا، ادنیٰ سےادنی مومن کو جو مکان ملےگا اس کی ایک ایک اینٹ سونے کی اور ایک ایک چاندی کی ہو گی زعفران اور مشک کا گارا ہو گا اس کر کنگرے لال اور زمرد کے ہوں گے، مشک و عنبر سے گچ ہو گااور لال و گوہر سے گندہا ہوا ہو گا ۔ اس مکان میں ستر ہزار دالان ہوں گے، جن میں سے ہر ایک پانچ سو میل کی مسافت پر فراغ ہو گا اور طرح طرح کی بیٹھکیں ہوں گی ، جن میں حور وغلمان اور گانے والے بے شمار ہوں گے، اس میں قسم قسم کے گلزار و چمن ہوں گے،جنت کے میوے بہت لذیذ ہوں گے اگر ان میں سے ذرا سا ٹکڑا بھی کسی مردے کے منھ میں ڈال دیا جائے تو وہ فی الفور زندہ ہوجائے اور وہ میوے ہمیشہ ایک حال پررہیں گے ، کبھی کم نہ ہوں گے۔ جنت میں چار نہریں ہیں
١. ایسے پانی کی نہریں ہیں جن کا پانی زیادہ دیر رہنے سے متغیر نہیں ہوتا، بلکہ وہی اصلی ذائقہ رہتا ہو،
٢. دودھ کی نہریں جن کا مزہ بھی دیر تک رہنے سے نہیں بگڑتا،
٣. شراب کی نہریں جونہایت خوش ذائقہ ہیں
٤. خالص اور صاف شہد کی نہریں، نہ اس شہد اور دودہ جیسی میٹھی دنیا کی کوئی چیز ہےاور نہ پانی اور شراب کی مثال دنیا میں مل سکتی ہے اور وہ شراب ایسی نہیں ہے جس میں بدبو، کڑواہٹ اور نشہ ہو اور جس کے پینے سے عقل جاتی رہے اور آپے سے باہر ہو کر بیہودہ بکتے پھریں، بلکہ وہ شراب ان سب عیبوں سے پاک ہے، جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر سوار سو برس تک اس کے سایہ میں چلے تو بھی ختم نہ ہو ، ہر ایک جنتی کے لئے سنہرے تخت نہایت ہی زیب و زینت کے ساتھ ہو گا، ہر طرف حور و قصور ہوں گے، غلمان سامنے ۔ہوں گے، خوریں نورانی مخلوق ہیں، جن کی خوبصورتی کی کوئی حد نہیں جنت کے کھانے اور لباس کی خوبیاں بیان سے باہر اور قیاس سے دور ہیں، کھانا پینا، آرام، خوشی، جماع، لذت وغیرہ بہشتیوں کو بہت حاصل ہو گا اور جو چیزیں چاہیں گےاسی وقت ان کے سامنے موجود ہو جائیں گی اور ان کی لذت دنیا کی لذتوں سے سیکڑوں گنا زیادہ ہوں گی اور وہ بے ضرر ہوں گی، میووں کی شکل اگرچہ دیکھنے میں ایک جیسی ہو گی مگر مزہ مختلف ہو گا، وہاں نجاست، گندگی، پاخانہ، پیشاب، ، تھوک، رینٹھ، کان کا میل، بدن کا میل ہرگز نہ ہوں گے، بلکہ خواہ کتنا ہی کھائیں ایک خوشبودار فرحت بخش ڈکار آئے گی یا خوشبودار فرحت بخش پسینہ آئے گا اور کھانا پینا ہضم ہو کر سب بوجھ و گرانی ختم ہو جائےگی، ہر وقت زبان سے تسبیح و تکبیروتحمید قصد کے ساتھ و بلا قصد سانس کی مانند جاری ہو گی ۔ ہر جنتی کے سرہانے اور پائنتی دو حوریں نہایت اچھے آواز سے گائیں گی، مگر ان کا گانا یہ شیطانی مزا میر نہیں بلکہ اللّٰہ جل شانہ کی حمد و پاکی ہو گا وہ ایسی خوش گلو ہوں گی کہ مخلوق نے ویسی آواز کبھی نہ سنی ہو گی، اگر جنت کا کپڑا دنیا میں پہنایا جائے تو جو دیکھے وہ بیہوش ہو جائے، لوگوں کی نگاہیں اس کا تحمل نہ کر سکیں اگر بہشت کی نعمتوں میں زمین و آسمان کو ڈال دیا جائے تو اس طرح مل جائے کہ کچھ پتا نہ چلے
جنت میں ایک بازار ہوگا جس کا نام سوق الجنہ ہے- اس بازار میں طرح طرح کی نعمتیں لا کر ڈھر کر دی جائیں گی، ان میں جنتیوں کے لئے یاقوت، زمرد، موتی، لال، زبرجد اور دیگر قسم کی جواہرات اور سونے چاندی کی نورانی کرسیاں اور منبر ہوں گے، جو صرف مومنوں کو لئے موجود ہوں گے اور اعمال کے مطابق ہر ایک جنتی کو دئے جائیں گے، ادنیٰ سے ادنیٰ جنتی مشک و کافور کے ٹیلے پر بیٹھے گا اور کوئی اپنے آپ کو ادنیٰ نہیں سمجھے گا بلکہ یہ کرسی والوں کو بھی اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھیں گے، سب سرور کی حالت میں بیٹھے ہوں گے، اللّٰہ تعالٰی کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور اللّٰہ تعالٰی کی حمد پڑھیں گے، جنت کی تمام نعمتیں بھول جائیں گے اور پھر حوش میں آ جائیں گے، اللّٰہ تعالٰی کا دیدار ایسا صاف ہو گا جیسا کہ آفتاب اور چودہویں رات کےچاند کو ہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہےاور ایک کا دیکھنا دوسرے کے دیکھنے کو نہیں روکتا وہ سب اسی حالت پر ہوں گے کہ ابر چھا جائے گا اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گا جو لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی پھر اللّٰہ جل شانہ فرمائے گا کہ اس بازار سے تمہیں جس چیز کی خواہش ہے پسند کر لیں اور ہر قسم کے ریشمی لباس اور نہایت آبدار بیشمار موتیوں وغیرہ سے لے لیں، جب جنتی اپنی اپنی خواہش کے مطابق پسند کرلیں گے تو فرشتےجو اس بازر کو گھیرے ہوئے ہوں گے ان تخفوں کو ان جنتیوں کے گھر پہنچا دیں گے،جنتی اس بازر میں آپس میں ملیں گے پھر وہاں سے اپنے اپنےمکانوں کے واپس آئیں گے ان کی بیویاں استقبال کریں گی اور مبارک باد دیں گی، عام مومنین کو اللّٰہ پاک کا دیدار ہر ہفتہ جمعہ کے دن ہو گا اور خاص مومنوں کو ہر روز دو بار فجر اور عصر کے وقت اور خاص الخاص مومنوں کو ہر وقت ہر گھڑی یہ نعمت حاصل ہو گی اور جنت میں اللّٰہ تعالٰی کے دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت نہ ہو گی- اہل جنت مرد و عورت بہت حسین ہوں گے، سب بے ریش ہوں گے، سر کے بال اور پلکوں اور بھووں کے سوا بدن پر کہیں بال نہ ہوں گے، سب کی آنکھیں قدرتی سرمگیں ہوں گی ، مرد و عورت خواہ کسی عمر کے ہو کر دنیا سے گزرے ہوں وہاں سب نوجوان ہوں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے، آپس میں اختلاف اور دشمنی نہیں ہو گی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے کوئی فحش اور گناہ کی بات وہاں سننے میں نہ آئے گی،جو شخص ایک دفعہ جنت میں داخل ہو جائے گا پھر وہاں سے نہ نکالا جائے گا، بلکہ ابدالآباد تک وہیں رہے گا، جنت میں نہ موت ہے نہ نیند، غرض کہ جنت کی نعمتیں بیشمار، قرآن و احادیث میں ان کی تفصیل موجود ہے مزید اللّٰہ تعالٰی جس کو نصیب کرے گا وہاں جا کر دیکھ لے گا
اَللَّھُمَّ ھَب لَنَا جَنتَ الفِردَوسِ وَارزُقنَا زَیِارَةَ وَ جھِکَ الکَرِیم بِجَاہ حَبِیبِکَ الَّرحِیم عَلَیہِ الصَّلوٰةُ وَالتَّسلِیم اٰمِینَ
دوزخ کا بیان
دوزخ کے سات طبقے ہیں
١. جہنم،
٢. لظیٰ،
٣. حطمہ،
٤. سقر،
٥. سعیر،
٦. جحیم،
٧. ہاویہ،
ان ساتوں طبقوں میں کم و بیش اور مختلف قسم کا عذاب ہے۔ اگر دوزخ سے ایک خشخاش کے برابر آگ لائی جائے تو تمام زمین و آسمان کو ذرا سی دیر میں فنا کر دے۔ دنیا کی آگ اس کا ستّرواں جزو (١/٧٠) ہے، آدمی اور پتھر اس کا ایندھن ہیں، اگر دوزخ کا کوئی داروغہ دنیا والوں پر ظاہر ہو تو زمین کے سب رہنے والے اس کی ہیبت سے مر جائیں گے۔ دوزخیوں کے کپڑے کا ایک پرزہ بھی اتنا بدبوداراور گندہ ہو گا کہ اگر تمام مخلوق مرجائے تب بھی ان کی بدبو اس کی بدبو اور گندگی کو نہ پہنچ سکے، دوزخ کی بعض وادیاں ایسی ہیں کہ خود دوزخ بھی ہر روز ستر یا زیادہ مرتبہ ان سے پناہ مانگتی ہے۔ دوزخ کا ادنیٰ عذاب یہ ہو گا کہ آگ کی جوتیاں جو دوزخی کو پہنائی جائیں گی ان سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح ابلے گا وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب اس پر ہو رہا ہے، دوزخ میں طرح طرح کے عذاب ہوں گے آگ کا مکان، آگ کا فرش، کھانے کو زقوم (توھر)، پینے کو پیپ، نہایت ہی کھولتا ہوا پانی، پہننے کو گندھک کے کپڑے، گلے میں گرم طوق و زنجیر، کفار کو سر کے بل چلایا جانا، بڑے بڑے کانٹے چبھونا، بھاری گرزوں سے مارنا، بڑی قسم کی اونٹوں کی گردن کے برابر بچھو اور بہت بڑے بڑے سانپ کہ اگر ایک بھی ڈس لے تو اس کی سوزش و درد و بیچینی ہزار برس تک رہے وغیرہ، دوزخیوں کے منھ کالے اور شکلیں بدنما ہوں گی، جسم بہت بڑا کر دیا جائے گا، ایک شانے سے دوسرے شانے تک تیز سوار کے تین دن کے سفر کے برابر اور ایک ایک ڈاڑھ اُحد پہاڑ کے برابر ہو گی۔ کفار کی شکل نہایت مکروہ اور غیر انسانی ہو گی، ہر لحظہ عذاب الہیٰ ان کو لئے سخت ہوتا جائے گا وہ موت مانگیں گے مگر ان کو موت نہ آئے گی، ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہیں گے، مومن گناہگار بقدر گناہ عذاب بھگت کر یا نبی کریم صلی اللّٰہ ۔علیہ وسلم کی برکت و شفاعت سے نجات پالیں گے
نَساَلُ اللّٰہُ العَفوَ والعَافِیَتَ فِی الدِّینَ وَالدُّنیَا وَ الاخِرَةِ، رَبَّنَا اَدخِلنَا الفِردَوسَ وَاَجِرنَا مِنَ النَّارِ
آخرت پر ایمان لانا
آخرت پر ایمان لانا یوم آخرت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا دن اور اس کی سختیاں حق ہیں ۔قبر میں منکر نکیر کا سوال جواب اور سب کافروں اور بعض گنہگار مومنوں کو قبر کا عذاب ہونا حق ہے۔
عذاب قبر
ہر جاندار کو موت کا مزا چکھنا ہے اور مرنے کے بعد ہر انسان کواس کے عملوں کی جزا یا سزا ملے گی اس کے دو درجے ہیں۔ایک مرنے کے بعد سے قیامت تک اس کو عالم برزخ کہتے ہیں اور دوسرا درجہ قیامت سے لے کرابدالاباد تک ہے اس کوحشر و نشر کہتےہیں۔اس میں پوری پوری جزا و سزا ہوگی۔سب کفار اور بعض گنہگار مومنوں کو قبر کا عذاب ہوتا ہے۔
بعض گناہگار مومنون سے قبر کا عذاب بھی معاف ہو جاتا ہے یا وہ گناہ کے مطابق عذاب پا کر نجات پا جاتے ہیں ۔صالح مومن مرد و عورت قبر میں عیش و آرام سے رہتے ہیں۔وارثوں اور دیگر مسلمانوں کی خیر خیرات کرنے قران مجید و نوافل وغیرہ پڑھنے اور اس کا ایصال ثواب و دعا کرنے سے بھی میت کےعذاب قبر میں تخفیف ہو جاتی ہے مگر کافر کو مرنے کے بعد کوئی خیرات یا دعا وغیرہ نفع نہیں دیتی خواہ کوئی مومن ہی ایسا کرے۔ اسی طرح اگر کوئی کافرکسی کافر یا مومن مردے کے لئے دعا کرے یا صدقہ دے تو ہرگز اس کو نفع نہ دے گا۔ ثواب پہچانے کے لئے کسی خاص چیز یا کسی خاص وقت یا خاص طریقہ کی پابندی شرع شریف میں نہیں ہے۔ایسی پابندی سے بچنا چاہئے بلکہ جس وقت جو کچھ میسر ہووہ مالی یا بدنی ثواب کا کام ادا کر کے اس کا ثواب بخش دیا جائے۔ایصال ثواب کا کام رسم کی پابندی، دکھاوے اور نام و شہرت کے لئے نہ کرے اور بلا ضرورت ادھار اور قرض لے کر رسوم کی پابندی کرنا اور بھی گناہ ہے کسی ایسی مصلحت سے وقت وغیرہ کی پابندی کی جائے جو شرعاً جائز ہو اور اس کو شرع کی طرف سے لازمی نہ سمجھا جائے تو کوئی حرج نہیں مگر آج کل جاہلوں کی رسمی پابندی کےخوف سے بچنا ضروری ہےورنہ وہ دلیل بنائیں گے۔
قبر میں مُردے سے سوال و جواب کی تفصیل یہ ہے کہ جب مُردے کو اس کے خویش و اقارب قبر میں رکھ کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں۔ جو اس کو بیٹھا کر پوچھتے ہیں
مَن رَّبُّکَ (تیرا رب کون ہے)
مومن بندہ جواب دیتا ہے
رَبِّیَ اللّٰہ (میرا رب اللّٰہ تعالی ہے)
مَن نَّبِیُّکَ ( تیرا نبی کون ہے)
مومن بندہ جواب دیتا ہے نَبِیِّی مُحَمَّد ( میرے نبی محمد (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) ہیں)
مَا دِینُکَ ( تیرا دین کیا ہے)
مومن بندہ جواب دیتا ہے
دِینِیَ الاِ سلاَمُ ( میرا دین اسلام ہے)
بعض روایات میں دوسرا سوال اس طرح ہے
مَا کُنتَ تَقُوُلُ فِی ھٰذَا الرُّجُلِ ( تو اس آدمی (محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتا تھا)
مومن بندہ جواب دیتا ہے
ھُوَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (وہ اللّٰہ کے رسول (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) ہیں)
وہ فرشتے کہیں گے تجھے کس نے بتایا وہ کہے گا میں نے اللّٰہ کی کتابیں پڑھیں، اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی۔ پس اس کے لئے قبر میں جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ جس سے جنت کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی رہے گی اور اس کی قبر کشادہ اور نورانی کر دی جائے گی ۔ اگر وہ بندہ کافر یا منافق ہوتا ہے تو سوالوں کے جواب میں کہتا ہے ھَاہ ھَا لَا اَدرِی ( افسوس میں کچھ نہیں جانتا)
وہ فرشتے اس کو لوہے کے گرزوں( ہتھوڑوں) سے ایسے مارتے ہیں کہ سوائے جن و انس کے تمام مخلوق اس کی چیخیں سنتی ہے اور قبر اُس کو اِس قدر دباتی ہے کہ اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدہر اور اُدہر کی اِدہر نکل جاتی ہیں پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے۔ اور وہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے، البتہ بعض مومنوں کو بقدر گناہ عذاب پورا ہو کر اس سے پہلے بھی اس عذاب سے رہائی ہو جاتی ہے اور کبھی محض اللّٰہ پاک کے فضل و کرم سے اور کبھی دنیا کے لوگوں کی دعا اور صدقہ و خیرات وغیرہ کے ایصال ثواب سے بھی عذاب سے رہائی حاصل ہو جاتی ہے۔ جمعہ کے روز کی برکت سے بھی ہر گناہگار مومن کو اس روز عذاب سے رہائی ہو جاتی ہے۔ ضغطہ قبر ( قبر کی تنگی و گھبراہٹ) نیک بندوں کو بھی ہوتا ہے جو کسی گناہ کے سبب یا کسی نعمت کا شکر ادا نہ کرنے کے سبب ذرا سی دیر کے لئے ہوتا ہے پھر اّسی وقت دور ہو جاتا ہے، بعض کو اللّٰہ تعالٰی کی رحمت سے نہیں بھی ہوتا۔ مرنے کے بعد ہر روز صبح اور شام کے وقت ہر مُردے کو اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت بڑھاتے ہیں
جو لوگ قبر میں دفن نہیں کئے جاتے بلکہ جلا دئے جاتے ہیں یا پانی میں ڈوب کر مر جاتے یا جانور کھا جاتے ہیں وغیرہ، ان کو بھی عذاب قبر ہوتا ہے، قبر سے مراد وہ گڑھا نہیں جو زمین کھود کر میت کو اس میں دفن کیا جاتا ہے۔ بلکہ وہ مقام ہے جہاں مرنے کے بعد برزخ میں روح کو رکھا جاتا ہے۔ نیکوں کی روح کے مقام کو عالمِ بالا یعنی علیین کہتے ہیں اور بروں کے مقام کو عالمِ پست یعنی سجین کہتے ہیں اور وہ عذاب سانپ بچھو لوہے کی سلاخیں وغیرہ سے جیسی اس عالم کے مناسب ہوں روح کو دیا جاتا ہے اور جسم کے ساتھ روح کا ایک ادنیٰ سا تعلق باقی رہنے کی وجہ سے زمینی گڑھے کو بھی قبر کہہ دیتے ہیں اور بعض اوقات اس قبر میں رکھے ہوئےجسم پر بھی اس عذاب و ثواب کے اثرات مرتب ہو کر اہلِ دنیا کی عبرت کے لئے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔
علماء نے مسلمان کے گناہ معاف ہونے کے دس سبب لکھے ہیں :
١. توبہ،
٢. استغفار،
٣. نیک اعمال،
٤. دنیا میں کسی بلا میں گرفتار ہونا،
٥. ضغطہ قبر،
٦. مسلمانوں کی دعا کی برکت،
٧. مسلمانوں کا صدقہ جو اس کی طرف سے دیں،
٨. قیامت کی سختی،
٩. نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شفاعت،
١٠. محض رحمت الہیٰ،
جو لوگ قبر کے عذاب اور منکر نکیر کے سوال و جواب سے محفوظ رہیں گے یہ ہیں،
١. غازی یا شہید،
۔٢. جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن مرنے وال،
تناسخ (آواگون) مسلمانوں کے عقیدے کے بلکل خلاف ہے یہ ہندوئوں اور بعض کافر فلسفیوں کا عقیدہ ہے جو غلط ہےانبیاء علیہم السلام اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد اپنی قبروں میں اپنے اجسام کے ساتھ زندہ ہیں۔ اور اس زندگی کی کیفیت اللّٰہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ شہدا بھی زندہ ہیں، لیکن انبیاء علیہم السلام کی زندگی سب سے قوی تر ہے، صدیقین و دیگراولیاء اللّٰہ و حفاظ بھی زندہ ہیں۔ اولیاء اللّٰہ اور شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے جسم میں داخل کر دی جاتی ہیں وہ بہیشت میں پھرتی اور اس کی نہروں کا پانی پیتی ہیں۔ ان کی ارواح کو اجازت ہوتی ہے کہ جہاں چاہیں پھریں، کاملین کی ارواح کبھی کبھی اللّٰہ تعالٰی کی اجازت سے اس جسمانی دنیا میں ظاہر ہو کر تصرف بھی کرتی ہیں اور اپنے دوستوں کی مدد کرتی اور دشمنوں کو سزا دیتی ہیں
قیامت کا دن اس دن کو کہتے ہیں جب اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے، قیامت کا آنا برحق ہے۔ اس کا ٹھیک وقت اللّٰہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا اتنا معلوم ہے کہ جمعہ کا دن اور محرم کی دسویں تاریخ ہو گی۔ اس کی جو نشانیاں حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمائیں ہیں، سب حق ہیں اور وہ دو قسم پر ہیں
١. علاماتِ صغریٰ،
٢. علاماتِ کبریٰ،
علامات صغریٰ
جو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال مبارک سے لے کے مہدی علیہ السلام کے ظہور تک ظاہر ہوں گی، بہت زیادہ ہیں ان میں سے کچھ مختصراً یہ ہیں ۔
١. حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اس دارِ فانی سے پردہ فرمانا،
٢. بیت المقدس کا فتح ہونا،
٣. ایک عام وبا کا ہونا( یہ دو نشانیاں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں پوری ہوئی)،
٤. مال کا زیادہ ہونا( یہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں ہوا)،
٥. ایک فتنہ جو عرب کے گھر گھر میں داخل ہو گا(یہ شہادتِ عثمان رضی اللّٰہ عنہ کا سبب تھا)،
٦. مسلمانوں اور نصاریٰ میں صلح ہو گی، پھر نصاریٰ غدر کریں گے، (یہ علامات آئندہ ہونے والی ہے)،
٧. علم اٹھ جائے گا جہل بڑھ جائے گا،
٨. زنا اور شراب خوری کی بہت ہی کثرت ہو گی،
٩. عورتیں زیادہ اور مرد کم ہوں گے( یہ غالباً حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں جہاد میں مردوں کے بکثرت شہید ہونے سے ہو گا)،
١٠. جھوٹ بولنا کثرت سے ہو گا،
١١. بڑے بڑے کام نااہلوں کے سپرد ہوں گے، بےعلم اور کم علم لوگ پیشوا بن جائیں گے، کم درجہ کے لوگ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنائیں گے،
١٢. لوگ مصیبتوں کی وجہ سے موت کی آرزو کریں گے،
١٣. سردار لوگ مالِ غنیمت کو اپنا حصہ سمجھیں گے،
١٤. امانت میں خیانت بڑھ جائے گی،
١٥. زکوة دینے کو جرمانہ سمجھیں گے،
١٦. علم دنیا حاصل کرنے کے لئے پڑھیں گے،
١٧. لوگ اپنے ماں باپ کی نافرمانی اور ان پر سختیاں کریں گے،
١٨. مرد عورت کا فرنمابردار اور ماں باپ کا نافرمان ہو گا اور دوست کو نزدیک اور باپ کو دور کرے گا،
١٩. مسجدوں میں لوگ شور کریں گے،
٢٠. فاسق لوگ قوم کےسردار ہوں گے اور رذیل لوگ قوم کے ضامن ہوں گے، ٢١. بدی کے خوف سے شریر آدمی کی تعظیم کی جائے گی،
٢٢. باجےعلانیہ ہوں گے، گانے بجانے اور ناچ رنگ کی زیادتی ہو جائےگی، ٢٣. امت کے پچھلے لوگ پہلے بزرگوں پر لعنت کریں گے،
٢٤. سرخ آندھی،
٢٥. زلزلے،
٢٦. زمین میں دھنسنا،
٢٧. صورتیں بدل جانا،
٢٨. پتھر برسنا وغیرہ دیگر علامات ظاہر ہوں گی اور اس طرح پے درپےآئیں گی، جس طرح تاگا ٹوٹ کر تسبیح کے دانے گرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اچھے کام اٹھتے جائیں گے اور برے کاموں اور گناہوں کی کثرت ہوتی جائے گی،
٢٩. نصاریٰ تمام ملکوں پر چھا جائیں گے،
٣٠. مسلمانوں میں بڑی ہل چل مچ جائے گی اور گبھرا کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تلاش میں مدینہ منورہ میں آئیں گے اور امام مہدی علیہ السلام مکہ چلے جائیں گے۔ بعض اور علامات بھی ہوں گی مثلاً
٣١. درندے جانور آدمی سے کلام کریں گے،
٣٢. کوڑے پر ڈالی ہوئی جوتی کا تسمہ کلام کرے گا اور آدمی کو اس کے گھر کے بھید بتائے گا۔ بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی،
٣٣. وقت میں برکت نہ ہو گی، سال مہینے کی مانند اور مہینہ ہفتہ کی اور ہفتہ دن کی مانند ہو گا اور دن ایسا ہو جائے گا جیسا کہ کسی چیز کو آگ لگی اور جلدی بھڑک کر ختم ہو گئی،
٣٤. ملک عرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہو جائیں گی، مال کی کثرت ہو گی،
٣٥. نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے،
٣٦. اس وقت تک تیس بڑے دجال ہوں گے وہ سب نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ نبوت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے، ان میں سے بعض گزر چکےہیں مثلاً مسیلمہ کذاب، طلحہ بن خولید، اسودعنسی، سجاح عورت جو کہ بعد میں اسلام لے آئی وغیرہم اور جو باقی ہیں ضرور ہوں گے اور بھی بہت سی علامات حدیثوں میں آئی ہیں
علامات کبٰریٰ
حضرت امام مہدی رضی اللّٰہ عنہ کے ظہور سے نفحِ صور تک مندرجہ ذیل علامتیں ظاہر ہوں گی۔
١. حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا۔ مہدی کے معنی ہیں ہدایت پایا ہوا۔ امام مہدی موعود یعنی جن کا علاماتِ قیامت میں ذکر ہے اور قربِ قیامت میں جن کے ظہور کا وعدہ ہےایک خاص شخص ہےجو دجال موعود( یعنی جس دجال کا امام مہدی سے پہلے ہونے کا وعدہ ہے) کے وقت میں ظاہر ہوں گے اور دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے وہ نصاریٰ سے جنگ کر کے فتحیاب ہوں گے، آپ کا نام محمد والد کا نام عبداللّٰہ والدہ کا نام آمنہ ہو گا آپ حضرت امام حسن رضی اللّٰہ عنہ کی اولاد سے ہوں گےمدینے کے رہنے والے ہوں گے قد مائل بہ درزی، قوی الجثہ، رنگ سفید سرخی مائل چہرہ کشادہ ، ناک باریک و بلند زبان میں قدرے لکنت، جب کلام کرنے میں تنگ ہوں گے تب زانو پر ہاتھ ماریں گے، آپ کا علم لدنی ہو گا، چالیس برس کی عمر میں ظاہر ہوں گے اس کے بعد سات یا آٹھ برس تک زندہ رہیں گےجب مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آئیں گے لوگ ان کوپہچان کر ان سے بیت کریں گے اور اپنا بادشاہ بنا ئیں گےاس وقت غیب سے یہ آواز آئے گی
ھَذا خَلِیفَہّ اللّٰہِ المَھدِی فَاستَمِعُو وَ اطِیعُوا " یہ اللّٰہ تعالی کا خلیفہ مہدی ہے اس کی بات سنو اور اطاعت کرو"
٢. اس سال ماہ رمضان میں تیرہوں تاریخ کو چاند اور ستائسویں تاریخ کوسورج گرہن ہو گا ۔
٣. امام مہدی رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں اسلام خوب پھیلے گا امام امہدی سنت نبوی پر عمل کریں گے عرب کی فوج ان کی مدد کو جمع ہو گی کعبہ کے دروازہ کے آگے جو خزانہ مدفون ہے جس کو تاج الکعبہ کہتے ہیں نکالے گےاور مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں گے، دمشق کے قریب نصاریٰ کے لشکر جرار کےساتھ جنگ ہو گی مسلمانوں کے تین فریق ہوں گے ایک وہ جو نصاری کے خوف سے بھاگ جائیں گے ان کی توبہ کبھی قبول نہ ہو گی اور وہ حالت کفر میں مر جائیں گے ایک فریق شہید ہو جائے گا اور افضل شہدا کا مرتبہ پائے گا تیسرا فریق فتح ۔پائے گا اور ہمیشہ فتنے سے امن میں رہے گا ۔
٤. دجال موعود ایک خاص شخص ہے یہ قوم یہود سے ہو گا اور اس کا لقب مسیح ہو گا داہنی آنکھ اندھی ہو گی اور اس میں انگور کے دانے کی مانند ناخونہ ہوگا اس کے بال حبشیوں کے بالوں کی مانند نہایت پیچیدہ ہوں گے، ایک بڑا گدھا اس کی سواری کے لئے ہو گا اور اس کے ماتھے کے عین بیچ میں کافر اس طرح لکھا ہو گا" ک ف ر" جس کو ہر ذی شعور پڑھ لے گا، اول وہ ملک شام و عراق کے درمیان ظاہر ہو کر نبوت کا دعویٰ کرے گا پھر اسفہان میں آئےگا اور ستر ہزار یہودی اس کے تابی ہوں گے وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اس کے ساتھ آگ ہوگی جس کو وہ دوزخ کہے گا اور ایک باغ ہو گا جس کا نام وہ بہشت رکھے گا دراصل اس کی دوزخ جنت کی تاثیر رکھتی ہو گی اور اس کی جنت دوزخ کے اثر والی ہو گی، زمین میں دائیں بائیں فساد ڈالتا پھرے گا اور بادل کی طرح پھیل جائے گا، اس سے پہلے سخت قحط ہو گا وہ عجیب عجیب کرشمے دکھائے گا، جو استدراج کے حکم میں ہوں گے، مسلمانوں کو ان کی تسبیح و تہلیل روٹی اور پانی کا کام دیگی پھر مکہ کی طرف آئے گا، لیکن فرشتوں کی حفاظت کے سبب مکہ معظمہ میں داخل نہ ہو سکے گا، پھر مدینہ منورہ کا ارادہ کرے گا اور اُحد پہاڑ کے پاس ڈیرہ لگائے گا مدینہ منورہ کے اس وقت سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو محافظ فرشتے ہوں گے اس لئے دجال اندر نہ جاسکے گا۔ پھر دمشق کی طرف روانہ ہو گا جہاں امام مہدی ہوں گے وہ امام مہدی سے مقابلہ کرے گا، امام مہدی رضی اللّٰہ عنہ لشکر درست کر کے جنگ کےلئے تیار ہوں ۔گے
٥. اتنے میں عصر کا وقت دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی سفید منارہ پرزرد لباس پہنے ہوئے دو فرشتوں کے بازئوں پر ہاتھ دہرے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، جب سر نیچا کریں گے تو پسینے سے قطرے ٹپکیں گے، جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کے دانوں کی مانند قطرے گریں گے پھر امام مہدی رضی اللّٰہ عنہ سے ملاقات کریں گے اور ایک دوسرے کو امامت کے لئےکہیں گےغالباً پہلےامام مہدی رضی اللّٰہ عنہ امام ہو کر نمازپڑھائیں گے تاکہ تکریم امت ہو، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت فرمائیں گے، کیونکہ آپ نبی ہیں حضرت عیسی علیہ السلام دجال کے قتل کے لئے آمادہ ہوں گے آپ کے دم کی یہ تاثیر ہو گی کہ جس کافر کو وہ ہوا لگ جائے گی وہ مر جائےگا اور جہاں تک ان کی نظر جائے گی وہ ہوا بھی وہاں تک جائے گی، آپ دجال کا تعاقب کریں گے باب لُد( ملک شام کا پہاڑ یا گائوں) کے پاس اسے گھیر لیں گےاور نیزے سے قتل کر کے اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے اگر اس کے قتل میں حضرت عیسیٰ جلدی نہ کریں تو وہ کافر نمک کی طرخ خود بخود پگھل جائے پھر لشکرِاسلام دجال کے لشکر کو کہ اکثر یہودی ہوں گے بکثرت قتل کرے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکم دیں گے کہ خنزیر قتل کئے جائیں اور صلیب کہ جس کو نصاریٰ پوجتے ہیں توڑ دی جائے اور کسی کافر سے جزیہ نہ لیا جائے بلکہ وہ اسلام لائے پس اس وقت تمام دنیا میں دین اسلام پھیل جائے گا کفر مٹ جائے گا خوب انصاف راج ہو گاجور وظلم دنیا سے دور ہو جائے گا۔ امام مہدی رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت سات یا آٹھ یا نو برس ہو گی ( باخلافِ روایات) پھر آپ دنیا سےتشریف لے جائیں گے خضرت عیسی علیہ اسلام اور مسلمان ان کے ۔جنازے کی نماز پڑھ کر دفن کریں گے
٦. اس کے بعد تمام انتظام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اختیار میں ہو گا اور دنیا اچھی حالت پر ہو گی پھر یکایک وحی الہی سے حضرت عیسی علیہ السلام لوگوں کو کوہ طور کی طرف لے جائیں گے اور قوم یاجوج ماجوج کا خروج ہو گا جو یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں، ذولقرنین بادشاہ نے ان کے راستے کو جو دو پہاڑوں کے درہ میں تھا مستحکم بند کر دیا تھا، اخیر زمانہ میں اسوقت وہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ غارت گر قوم پھیل جائے گی، کوئی ان سے مقابلہ نہ کر سکے گا آخرکار آسمانی بلا سے خود بخود مر جائیں گے پھر زمین میں خیر برکت ظاہر ہو گی لوگوں کو مال کی کچھ پرواہ نہ ہو گی ایک سجدہ کرنا دنیا و مافیا سے اچھا جانیں گے یہ خیر و برکت سات برس تک رہے گی، اس عرصہ میں خضرت عیسی علیہ السالم نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہو گی پھر دنیا سے انتقال فرمائیں گے اور آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روزہ مبارک میں دفن ہوں گے۔ اور قیامت میں وہیں سے اٹھیں گے
٧. حضرت عیسیٰ علیہ السالم ایک شخص کو خلیفہ مقرر فرمائیں گے وہ اچھی طرح عدل کے ساتھ حکومت کرے گا لیکن شر و فساد و کفر و الحاد پھیل جائے گا اسی طرح دو تین شخص یکے بعد دیگرے حاکم ہوں گے، لیکن کفر و الحاد بڑھتا جائے گا پھر اس زمانے میں ایک مکان مشرق میں اور ایک مکان مغرب میں دھنس جائے گا جہاں منکریںِ تقدیر رہتے ہوں گے ۔
٨.انہی دنوں آسمان سے ایک دھواں نمودار ہو گا کہاس سے مومنین کو زکام سا معلوم ہو گا اور کافروں کو نہایت تکلیف ہو گی
٩. انہی دنوں ماہ ذلحجہ میں قربانی (١٠ ذی الحجہ)کےدن کے بعد کی رات بہت دراز ہو گییہاں تک کہ بچے چلا اٹھے گے اور مسافر تنگ دل ہوں جائیں گے اور مویشی چراہ گاہ میں جانے کے لئے بہت شور کریں گے لیکن صبح نہ ہو گی یہاں تک کہلوگ ڈر کر کے روئیں چلائیں گے اور توبہ توبہ پکاریں گے اس رات کی درازیتین یا چار رات کے برابر ہو جائے گی ۔
١٠. پھر قرصِ آفتابتھوڑے نور کے ساتھ جیسا کہ گہن کے وقت ہوتا ہے مغرب کی جانب سے طلوع کرے گا اور اتنا بلند ہو کر جتنا کہ چاشت کے وقت ہوتا ہےپھر غروب ہو جائے گا اور حسب عادت مشرق سے طلوع کرے گا اس کے بعد کسی کی توبہ قبول نہ ہو گی ۔
١١. اس کے دوسرے روز مکہ کا پہاڑ صفا (نام) زلزلہ آ کر شک ہو جائے گا اور ایک جانور جس کی عجیبصورت ہو گیباہر آئے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اس کو دابتہ الارض کہتے ہیں، اس کے ایک ہاتھ میں عسائے موسیٰ اور دوسرے میں مُہر سلیمانی ہو گی، عصا موسیٰ سے ہر مسلمان کی پیشانی پر ایک نورانی خط بنائے گا اور مہر سے ہر کافر کیپیشانی پر ایک سخت سیاہ دھبہ لگائے گا، اس وقت تمام مسلمان و کافر کھلم کھلا پہچانےجائیں گے اور یہ علامت کبھی نہ بدلے گی ، کافر پھر ہرگز ایماننہ لائے گا اور مسلمان ہمیشہ ایمان پر رہے گا، اس کے سو برس بعد قیامت آئے گی
١٢. پس دابتہ الارضکے نکلنے کے کچھ عرصہ بعد یعنی جب قیامت میں چالیس برس رہ جائیں گے تو شام کی طرف سے ایک خوشبودار ٹھنڈی ہوا( ہوائے سرد)چلے گی جو بغلوں کے نیچے سے گزرے گی جسکے اثر سے کوئی اہل ایمان اور اہل خیر زمیں پر نہ رہے گا سب مر جائیں گے حتیٰ کہ اگر کوئی مومن پہاڑ کے غار میں چھپا ہو گا تو یہ ہوا پہاڑ کے غار میں پہنچ کر اس کو مارے گی پھر سب کافر ہی کافر رہ جائیں گے
١٣. پھر حبشہ کے کفار کا غلبہ ہو گا وہ خانہ کعبہ کو گرا دیں گے اور اس کے نیچے سے خزانے نکالیں گے ظلم و فساد پھیلے گا جانوروں کی طرح لوگ کوچہ و بازار میں ماں بہن سے جماع کریں گے، قران کاغذوں سے اٹھ جائے گا شہر اجڑ جائیں گے، قحط و وبا کا ظہور ہو گا اس کے بعد ملک شام میں کچھ ارزانی ہو گی اور کچھ امن ہو گا دوسری جگہ کے لوگ وہاں آئیں گے جس سے وہاں لوگوں کی کثرت ہو گی ۔
١٤. کچھ مدت کے بعد جنوب کی طرف سے ایک آگ نمودار ہو گی اور لوگوں کو گھیر کر ملک شام کی طرف لائے گی جہاں مرنے کے بعد حشر ہو گا
٥. اس کے بعد پانچ برس تک پھرلوگوں کو خوب عیش و آرام میسر ہو گا۔ لوگ شیطان کے بہکانے سے بتوں کی عبادت کریں گے، ان کو روزی کی فراخی حاصل ہو گی اور زمین پر کوئی اللّٰہ اللّٰہ کہنے والا نہ باقی رہے گا تب صور پھونکا جائے گا اور قائم ہو جائے گی۔ لوگ اس وقت عیش و آرام میں ہوں گے اور مختلف کاموں میں مصروف ہوں گے کہ یکایک جمعہ کے روز جبکہ محرم کا عاشروہ ہو گا علیٰ الصباح آواز آئے گی لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیا ہے وہ آواز آہستہ آہستہ بلند ہوتی جائے گی یہاں تک کہ کڑک اور رعد کے برابر ہو گی تب لوگ مرنے شروع ہوں گے۔ صور ایک چیز بگل کی مانند ہے حضرت اسرافیل علیہ السلام اس کو منھ سے بجائیں گے اس کی آواز کی شدت سے ہر چیز فنا ہو جائے گی جاندار مر جائیں گے درخت اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، آسمان کے تارے چاند سورج ٹوٹ کر گر پڑیں گے، آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا زمین معدوم ہو جائے گی۔ بعض علمائ نے کہا ہے کہ فنائےکلی سے یہ آٹھ چیزیں مستثنیٰ ہیں ان کو فنا نہ ہو گی
١. عرش،
٢. کرسی،
٣. لوح،
٤. قلم،
٥. بہیشت،
٦. دوزخ،
٧. صور،
٨. ارواح،
لیکن ارواح پر ایک قسم کی بیہوشی طاری ہو گی اور بعض علماء فرماتے ہیں سوائے اللّٰہ تعالی کے ہر چیز فنا ہو جائے گی اور ان آٹھ مذکورہ چیزوں میں بھی ایک دم بھر کے لئےفنا آئے گی، اس وقت اللّٰہ تعالی فرمائے گا
لِمَنِ المُلکُ الیَوم "آج کس کا ملک ہے"
جب کوئی جواب نہ دے گا تو اللّٰہ تعالٰی آپ ہی فرمائے گا
ِللّٰہِ الَواحِدِ القَھَّارِ "ملک اللّٰہ واحد و قہار ہی کا ہے۔"
یہ پہلے نفخے کا بیان تھا۔ چالیس سال کے بعد پھر صور پھونکا جائے گا اس سے ہر چیز دوبارہ ہو جائے گی، اس کی کیفیت ولبعث بعد الموت میں درج ہے۔
٦. قدر خیر و شر
قدر خیر و شر کے اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے ہونےکا مطلب یہ ہے کہ بندے کے افعال خواہ نیک ہوں یا بد سب کا خالق اللّٰہ تعالٰی ہے اور بندے فاعل و کاسب ہیں اور کسب پر جزا اور سزا مرتب ہے، نیکی کے کسب سے اللّٰہ پاک راضی ہے اور بدی کی کسب سے ناراض ہوتا ہے، تقدیر کا خلاصہِ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ بَھلا یا برا ہوتا ہے اللّٰہ تعالٰی کےعلم میں اس کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ کوئی اچھی یا بری بات اللّٰہ تعالٰی کے علم اور اندازے سے باہر نہیں اور اس کے ہونے سے پہلے بلکہ ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے اللّٰہ تعالٰی سب کچھ ہمیشہ سے جانتا ہےاور اپنی علم اور اندازے کے موافق اس کو پیدا کرتا ہے پس بندوں کے سب افعال اللّٰہ تعالٰی کے ارادے اور مشیت و قضا و قدر سے ظاہر ہوتے ہیں، لیکن بندے کو اس کے افعال میں اختیار دیا ہے، پس جب بندہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو ایک قسم کی قدرت اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے عنایت ہوتی ہے۔ پس اگر وہ بندہ اس قدرت کو نیک کام پر لگا دے تب بھی اس کو اختیار ہےاور اس اختیار کے نیک کام میں استعمال کرنے کی اس کو جزا یعنی اچھا بدلہ ملے گا اور اگر برے کام میں خرچ کرے تب بھی اس کو اختیار ہےاور اس اختیار کو برے کام میں استعمال کرنے کی سزا یعنی برا بدلہ ملے گا، اسی قدرت و اختیار پر شرعی احکامات کا دارومدار ہے۔ تقدیر یعنی قدر خیر و شر پر ایمان لانا تواتر کی حد کو پہچ گیا ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔ لیکن اس مسئلہ میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کرے، کیونکہ گمراہی کا خطرہ ہے اور کچھ فاعدہ نہیں، اسی لئے ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تاکید کے ساتھ اس بحث سے منع فرمایا ہے اگرچہ اللّٰہ تعالٰی نیکی و بدی کا خالق ہے مگر صرف خالقِ خیر( یزدان) یا صرف خالقِ شر (اہرمن) کہنا کفر ہے اور مجوس کا عقیدہ ہے۔ وہ اس طرح دو خدا مانتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے
خَالِقُ الخَیرِ وَ الشَّر یَا خَالِق کُلِّ شَئی
ہر چیز کا خالق و متصرف اللّٰہ کو جانے، ستاروں و دیگر زمینی وآسمانی علامات کو کسی چیز کے ہونے میں موثرِ حقیقی نہ جانے کہ یہ شرک ہے، اسباب کے درجہ میں جاننا جائز ہے، یعنی مجازاً اس فعل کو اس سبب کی طرف منسوب کرنا اور یہ سمجھنا کہ یہ تاثیرات ان چیزوں میں اللّٰہ تعالٰی نے رکھی ہیں اور اسی کے ارادہ و اختیار سے ان کی تاثیرات ظاہر ہوتی ہیں جائز ہے
قضا کی تین قسمیں
قضا کی تین قسمیں ہوتی ہیں
١. مبرمِ حقیقی یعنی جو علم الٰہی میں کسی شے پر معلق نہیں
٢. معلق محض جس کا کسی چیز پر معلق ہونا فرشتوں کے صحیفوں میں ظاہر فرما دیا گیا ہے
٣. معلق جو مبرم
٧. بعث بعد موت
ولبعث بعد الموت کا مطلب ہے کہ مرنے کے بعد سب کو قیامت کے دن دوبارا زندہ کر کےاٹھایا جائے گا- پس اول صور پھونکنے کے بعد جب چالیس برس کا عرصہ گزر جائے گا اور اتنی مدت تک احدیتِ صرفہ کا ظہور ہو چکے گا تو اللّٰہ تعالٰی اسرافیل علیہ الاسلام کو زندہ کرے گا پھر وہ صور پھونکیں گے جس کو نقحہ ثانی کہتے ہیں، جس سے اوّل عرش کو اٹھانے والے فرشتے پھر جبرائل و میکائل اور عزرائیل علیہم الاسلام اٹھیں گے پھر نئی زمین و آسمان اور چاند وسورج موجود ہوں گے، پھر ایک مینہ برسے گا جس سے سبزہ کی طرح ہر روح والی چیز جسم کے ساتھ زندہ ہو جائے گی - اس دوبارہ پیدا کرنے اور حساب و کتاب کر کے جزا و سزا کےطور پر جنت و دوزخ میں بیجھنے کو شرع میں بعث و نشر اور حشر و نشر کہتےہیں اور اس دن کو یوم الحشر، یوم الجزائ، یوم الدین اور یوم حساب کہتے ہیں- اس کا منکر کافر ہے سب سے پہلے ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبر مبارک سے اس طرح باہر تشریف لائیں گے کہ آپ کے داہنی ہاتھ میں حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کا ہاتھ ہو گا اور بائیں ہاتھ میں حضرت فاروق اعظم کا ہاتھ ہو گا پھرحضرت عیسیٰ علیہ السالم پھر اور انبیائ علیم اصلٰوة والسلام پھر صدیقیں پھر شہدا پھر صالحین پھر اور مونین یہ کہتے ہوئےاٹھیں گے
اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَذھَبَ عَنَّا الَحَزَنَ ط اِنَّ رَبَّنَا لَغَفّور شَکّور
پھر اور کفار اور اشرار یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے:
یَا وَیلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّر قَدِنَا
نیکوں کا گروہ الگ ہو گا اور بروں کی جماعت الگ، ہر شخص برہنہ بےخطنہ اٹھے گا سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنت کا سفید لباس پہنایا جائے گا ان کے بعد حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ان سے بہترلباس پہنایا جائے گا، ان کے بعد اور رسولوں اور نبیوں کو پھر مئوذنوں کو لباس پہنایا جائے گا پھر کوئی پیدل کوئی سوار ہو کر میدان حشر میں جائیں گے، کافر منھ کے بل چلتا ہوا جائے گا، کسی کو ملائکہ گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی اس روز آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہو گا اس دن کی تپش ناقابل بیان ہے اللّٰہ تعالٰی اپنی پناہ میں رکھے، بھیجے( مغز) کھولتے ہوں گے، اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستر گز زمین میں جذب ہو جائے گا پھر جب زمین جذب نہ کر سکے گی تو اوپر چڑھے گا کسی کے ٹخنوں تک ہو گا کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے گلے تک اور کافر کے تو منھ تک چڑھ کر لگام کی طرح جکڑ لے گا، جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا، پیاس کی شدت سے زبانیں سوکھ کر کانٹا ہو جائیں گی اور بعض کی منھ سے باہر نکل آئیں گی، دل ابل کر گلےمیں آجائیں گے، ہر شخص بقدرگناہ اس تکلیف میں مبتلا ہو گا پھر سب کو نامہ اعمال دئے جائیں گے- مومنون کو سامنےسے دائیں ہاتھ میں اور کافروں کو پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ملیں گے
نیکیاں اور بدیاں میزان عدل میں تولی جائیں گی، جس کا نیکی کا پلہ بھاری ہو گا وہ جنت میں جائے گا جس کا وہ پلہ ہلکا ہو گا وہ دوزخ میں جائے گا جس کے دونوں پلے برابر ہوں گے وہ کچھ مدت اعراف میں رہے گا، پھر اللّٰہ تعالٰی کی رحمت سے جنت میں جائے گا۔ میزان میں اعمال تولنے کی کیفیت اللّٰہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے۔ حقوق العباد کا بدلہ اس طرح دلایا جائے گا کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دلائی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈالی جائیں گی، چرندوں پرندوں اور وحشی جانوروں وغیرہ کا بھی حساب ہو گا اور سب کو بدلہ دلا کر سوائے جن و انس کے سب کو نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ میزان حق ہے اس کا منکر کافر ہے پل صراط حق ہے اور اس کا منکر بھی کافر ہے، میدان حشر کے گرداگرد دوزخ محیط ہو گی جنت میں جانے کے لئے اس دوزخ پر ایک پل ہو گا جو کہ بال سے زیداہ باریک، تلوار سے زیادہ تیز، رات سے زیادہ سیاہ ہو گا، یعنی اس پر اندھیرا ہو گا، سوائے ایمان کی روشنی کے اور کوئی روشنی نہ ہو گی، اس کی سات گھاٹیاں ہیں، سب لوگوں کو اس پر چلنے کا حکم ہو گا، سب سے پہلے نبیوں کے سردار محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس پر سے گزریں گے آپ کے بعد آپ کی امت گزرے گی، پھر اور مخلوق باری باری گزرے گی، سوائے انبیاء علیہ السلام کے ۔اور کوئی کلام نہ کرے گا اور انبیاء علیہم السلام کا کلام یہ ہوگا
اَللّٰھُمَّ سَلِّم سَلِّم
اے اللّٰہ سلامت رکھنا سلامت رکھنا
جہنم میں پل صراط کے دونوں طرف کانٹوں کی طرح کے آنکڑے ہوں گے، جن کی لمبائی اللّٰہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے، وہ لوگوں کو ان کے عملوں کے مطابق اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے پکڑیں گے، بعض کو پکڑ کر جہنم میں گرا دیں گے اور بعض کا گوشت چھیل ڈالیں گے لیکن زخمی کو اللّٰہ تعالٰی نجات دے گا، مومن سب گزرجائیں گے، بعض بجلی کی مانند بعض تیز ہوا کی مانند بعض پرندوں کی مانند، بعض تیز گھوڑے کی مانند، بعض تیز اونٹ کی مانند جلد گزر جائیں گے، بعض تیز دوڑنےوالے آدمی کی مانند، بعض تیز چلنے والی پیدل کی مانند، بعض عورتوں کی طرح آہستہ، بعض سرین پر گھسیٹتے ہوئےاور بعض چیونٹی کی چال چلیں گے، کفارومنافق سب کٹ کر دوزخ میں گر جائیں گے، جس کو اس دنیا میں شرعیت پر چلنا آسان ہو گا اتنا ہی پل صراط پر چلنا آسان ہو جائے گا اور جتنا یہاں شرعیت پر چلنا مشکل ہو گا، اتنا ہی وہاں پل صراط پر چلنا اس کے لئے دشوار ہو گا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شفاعت حق ہے، قیامت کے روز آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالٰی کے سامنے گناہگار بندوں کی شفاعت فرمائیں گے۔
حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شفاعت حق ہے، قیامت کے روز آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالٰی کے سامنے گناہگار بندوں کی شفاعت فرمائیں گے۔ حضور کو یہ فضیلت عطا ہو چکی ہے پھر بھی اللّٰہ تعالٰی کے جلال و جبروت کے ادب کی وجہ سے اللّٰہ تعالٰی سے شفاعت کی جازت مانگیں گے۔ اور سجدے میں گر کر اللّٰہ پاک کی بےشمار حمد وثنا کریں گے، پھر آپ کو شفاعت کی اجازت ہو گی، آپ بار بار شفاعت کرتےرہیں گےاوراللّٰہ پاک بخشتا رہے گا، یہاں تک کہ جس نے سچے دل سے لا الہ الا اللّٰہ کہا اور اس پر مرا ہو گا، اگرچہ اس نے کبیرہ گناہ بھی کئے ہوں لیکن شرک نہ کیا ہو وہ دوزخ سے نکالا جائے گا اور جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ کسی نبی کا امتی ہو آنحضرت سب کی شفاعت کریں گے اور اللّٰہ پاک قبول فرمائے گا سوائے کفر و شرک کے باقی تمام گناہوں کی معافی کے لئے شفاعت ہو سکتی ہے کبیرہ گناہوں والے شفاعت کے زیادہ محتاج ہوں محتاج ہوں گے کیونکہ صغیرہ گناہ تو دنیا میں بھی عبادتوں سے معاف ہو جاتےہیں پھر آپ کے بعد اور انبیا کرام و اولیا و شہدا و علما و حفاظ و حجاج بلکہ ہر وہ شخص جسے کوئی دینی منصب ملا ہو اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کرے گا، لیکن بلا اجازت کوئی شخص شفاعت نہ کر سکے گا۔ نبی کریم بعض اموات کی قبر میں شفاعت فرمائیں گے بعض کی حشر میں دوزخ میں جانے سے پہلے شفاعت کریں گے اور بعض کو دوزخ میں جانے کے بعد شفاعت کر کے دوزخ سے نکالیں گے، بعض کی جنت میں ترقی درجات و بلندی مراتب کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔ بعض کی شفاعت کا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خاص وعدہ فرما لیا ہے مثلاً
١. جو حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مزار مبارک کی زیادت کرے،
٢. جو حضور پر کثرت سے درود بھیجے،
٣. جو ثواب جان کر مکہ یا مدینہ میں رہے تاکہ وہاں وفات پائے، ان کےلئے آپ نے شفاعت کا وعدہ فرمایا ہے،
کافروں یا مشرکوں کے لئے آپ کی یا کسی اور کی شفاعت بالاتفاق نہیں ہو گی، بعض گناہگار مسلمانوں کے لئے بھی آپ کی شفاعت نہ ہو گی، جیسا کہ آپ نےفرمایا کہ قدریہ اور مرجئہ کو میری شفاعت نہ ہو گی، ظالم بادشاہ کی بھی میں شفاعت نہیں کروں گا اور شرع سے تجاوز کرنے والےکی بھی شفاعت نہیں کروں گا اگر اس کا ظاہر مطلب لیا جائے تو اہل کبائر سے یہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے، یا یوں کہا جائے گا کہ ترقی درجات کی شفاعت ان کے لئے نہ ہو گی۔ بعض لوگوں سےخفیہ حساب لیا جائے گا اور اللّٰہ تعالٰی ستاری فرما کر ان کو بخش دے گا اور کسی سے سختی کے ساتھ ایک ایک چیز کی باز پرس ہو گی، اللّٰہ تعالٰی اس قیامت کے دن کو جو ہمارے حساب سے پچاس ہزار برس کا دن ہے اپنےخاص بندوں پر اس قدر ہلکا کر دے گا کہ ان کو اتنا وقت معلوم ہو گا جتنا کہ ایک فرض نماز میں صرف ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی کم یہاں تک کہ بعض کو ایک پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہو جائے گا۔
اللّٰہ پاک حضور اقدس محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا کہ تمام اولین و آخرین حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حمد و ستائش کریں گے نیز آپ کو ایک جھنڈا مرحمت ہو گا جس کو لوائ حمد کہتے ہیں۔ تمام مومنین حضرتِ آدم علیہ السلام سے لے کر آخر دنیا تک سب اس کے نیچے ہوں گے